جہاں نوردی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - دنیا میں گھومنا پھرنا، سیاحی، (مجازاً) بیکار گھومنا، مارے مارے پھرنا۔ "جم کر بیٹھنے کی کوشش بھی کرو گے یا یوں ہی جہان نوردی میں مشغول رہو گے۔"      ( ١٩٣٨ء، ملفوظات اقبال، ١٢١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'جہاں' کے ساتھ فارسی مصدر 'نوردن' سے مشتق صیغہ امر 'نورد' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٣٨ء میں "ملفوظات اقبال" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دنیا میں گھومنا پھرنا، سیاحی، (مجازاً) بیکار گھومنا، مارے مارے پھرنا۔ "جم کر بیٹھنے کی کوشش بھی کرو گے یا یوں ہی جہان نوردی میں مشغول رہو گے۔"      ( ١٩٣٨ء، ملفوظات اقبال، ١٢١ )

جنس: مؤنث